غازی

قسط نمبر 19
تحریر ابو شجاع ابو وقار
پیشکش عارف چیمہ
ساتھیوں کو میجر احسن کا بتانے اور بید
کا واقعہ ہمارے تسلسل کے 12 روز بعد کا ہے ورنہ گذشتہ پیر کو ہم نے پاکستانی کونٹیکٹ
سے ڈاک وصول کی تھی اور بھیجی تھی اگلے روز میرے ساتھیوں نے دودھ دہی کی دوکان سے
ڈاک کا تھیلا یشونت سے وصول کرنا تھا منگل کو ساتھیوں نے یشونت سے ڈاک وصول کی اور
کاپیاں کر کے بدھ کو وہ کاپیاں مجھے مغل ہوٹل میں دے دیں کاپیوں کے علاوہ یشونت کا
ایک لفافہ بھی مجھے دیا جس پر موسٹ ارجنٹ لکھا ہوا تھا خط میں لکھا ہوا تھا کہ بہت
ہی ارجنٹ مسئلہ درپیش ہے آپ سے فوری ملنا چاہتا ہوں بدھ کو رات 8 بجے گولچہ سینما
کے ریسٹورنٹ میں آپ کا منتظر رہوں گا میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ بدھ کو رات
پونے آٹھ بجے گولچہ ریسٹورنٹ میں الگ الگ جا کر بیٹھ جائیں اور میری یشونت سے
ملاقات کے دوران چوکنا رہیں
میں جان بوجھ کر ریسٹورنٹ میں 15 منٹ
لیٹ پہنچا پہلے سے میرے وہاں بیٹھے ہوئے ساتھیوں نے گرین سگنل دیا یشونت کونے کی ایک
میز پر سر جھکائے بیٹھا تھا اور بہت پریشان دکھائی دے رہا تھا میں اس کے قریب
پہنچا تو اس نے سر اٹھایا مجھے دیکھ کر اسکی باچھیں کھل اٹھیں بہت انتظار کروایا
آپ نے میں تو مایوس ہو چلا تھا میں نے کہا کہ میں تو صرف 15 منٹ لیٹ ہوا ہوں
بہرحال بتائیں کیا ضرورت آن پڑی جو اتنا ارجنٹ ملنے کو کہا یشونت نے میرے آگے ہاتھ
باندھ دئیے اور کہا کہ میری زندگی اور عزت تمہارے ہاتھ میں ہے میں نے کہا کہ بتاؤ
بات کیا ہے چند سیکنڈ چپ رہنے کے بعد وہ گویا ہوا صاحب آپ سے میری کوئی بات پوشیدہ
نہیں میں ثمی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا کل شام میں ان کے ہاں گیا تو ثمی کی ماں
نے مجھے الگ لے جا کر بتایا کہ ثمی کا ایک خریدار آیا تھا اور وہ ثمی کے 35 ہزار
دے رہا تھا لیکن تم پرانے ہو اس لیے میں نے اسے ایک ہفتہ کا ٹائم مانگا ہے اب یہ
تم پر منحصر ہے کہ ایک ہفتے میں تم 35 ہزار دے کر ثمی کو لے جاؤ ورنہ میں اس بابو
کے ساتھ بھیچ دوں گی ابھی معلوم نہیں کہ وہ سچ بول رہی ہے یا جھوٹ. یہ کہہ کر یشونت
میری طرف امید بھری نظروں سے دیکھنے لگا میں نے کہا یشونت بابو اس معاملے میں کیا
کر سکتا ہوں یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے وہ گڑ گڑانے لگا یشونت بولا آپ جانتے ہیں میں
اتنی بڑی رقم کا بندوبست نہیں کر سکتا آپ میری آخری امید ہیں آپ مجھے روپے ایڈوانس
دے دیں میں باقی جو ڈاک دیا کروں گا اس میں سے آپ منہا کر لیا کریں.
میں نے کہا یشونت بابو آپ کی لائی ہوئی
سب ڈاک ہمارے مطلب کی نہیں ہوتی بس وہ ڈال میں رکھتا ہوں جو مطلب کی ہوتی ہے باقی
جو روپے پہلے میں آپ کو دے چکا وہ بھی بہت زیادہ ہیں آپ سے دوستی کی وجہ. میں نے
بھی آگے جواب دینا ہوتا ہے صرف ایک صورت ہے کہ اگر تم کرتار پور والی فائلزجنرل کے
دفتر سے لا کر دے دو تو تم کو رقم مل سکتی ہے
لیکن وہ تو جنرل صاحب کی سیف میں ہیں
اور چابیاں جنرل صاحب کے پاس ہوتی ہیں یشونت نے مایوسی سے جواب دیا اور خاموش ہوگیا
میں نے فوراً سکوت کو توڑا اور کہا یشونت صاحب ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے آپ کے
بقول جنرل صاحب کی سیف کھولتے بھی آپ ہیں اور بند بھی آپ کرتے ہیں اس دوران صابن کی
ٹکیا پر چابیوں کے نقش لیے جاسکتے ہیں آپ نقش لے لیں اور چابیاں بنوا لیں جنرل
صاحب کے جانے کے بعد آپ آسانی سے سیف کھول کر فائلیں نکال سکتے ہیں دفتر سے واپسی
پر فائلیں میرے ساتھی کو دے دیں اور رات کو واپسی پر فائلوں کے ساتھ 35 ہزار بھی
لے لینا یشونت سوچ میں پڑ گیا اور اس کی سوچ ڈر کی وجہ سے تھی
میں نے اسے زیادہ سوچنے کی مہلت نہ دی اور کہا کہ نقش لینے سے
لے کر چابی سے سیف کھولنے دو منٹ کا کام ہے اور آپ پہلے بھی رسک تو لے ہی رہے ہیں
اپنے پیار کی خاطر یہ بھی لے لیں ورنہ ایسے ہی گھٹتے مر جائیں گے اور آپ کی آتما
کو شانتی بھی نہیں ملے گی
یشونت جنون میں آ گیا اور کہا کہ جب زندگی میں خوشی نہ ہو تو جینے
کا مزا کب آتا ہے زندگی رنگین بنانے کے لیے میں یہ رسک بھی لے لوں گا صابن کی ٹکیاں
میں آج ہیے لیتا ہوں اور پھر اپنا کام شروع کر دوں گا لیکن اگر مجھے ایسا موقع نہ
ملے تو پھر ثمی میرے ہاتھ گئی میں نے کہا لگن سچی ہو تو موقع بناہی لیا جاتا ہے اس
نے کہا ٹھیک آپ روپیہ تیار رکھیں میں فائلیں لے کر ہی آؤں گا اس کے بعد میں نے یشونت
سی کہا کہ کل سے لے کر جب تک آپ وہ فائلیں نہیں لے آتے تب تک میرے دو ساتھی روزانہ
اس دوکان کے آس پاس رہیں گے یشونت نے خوشی میں کہا اوکے اور نمستے کہتا ہوا چلا گیا
اس کے جانے کے بعد 10 منٹ کے وقفے سے میں ریسٹورنٹ سے باہر نکلتے ہی اپنے ساتھیوں
سے کہا کہ کل سے روزانہ دو ساتھی اسی دوکان کے آس پاس یشونت کی نظر میں رہیں جب یشونت
کوئی اہم فائلز آپ لوگوں کو دے تو گھر پہنچ کر مجھ سے فون پر رابطہ کریں اور پھر
مغل ہوٹل کے ریسٹورنٹ میں مجھے وہ پہنچا آئیں. ساتھیوں نے اوکے کہا
اس دن کے بعد ہم ہر روز یشونت کی ڈاک کا انتظار کرنے لگے میرے
دو ساتھی روزانہ اس دوکان کے آس پاس یشونت کو نظر آتے آخر مقررہ تاریخ پر یشونت نے
ڈاک دی اور ساتھ تمام خاص خاص سویپرز کے
نام اور کس افسر کے دفتر کی صفائی کرتا ہے ساری ڈیٹیل ہمیں بھیج دی ہم نے ان تمام
فائلز کی تصویریں بنائیں اس کے علاوہ ایمرجنسی کے لیے کاپیاں بھی تیار کر لیں اسی
دوران عبدالکریم بھی چار صفحات پر مشتمل ایک اپنی تحریر دے گیا عبدالکریم جتنی اچھی
اردو بولتا تھا اس کے مطابق اسکی لکھائی اتنی اچھی نہیں تھی عبدالکریم نے اپنے اور
کرنل شنکر کے متعلق بہت کچھ لکھا یہاں مختصر بیان کرتا ہوں اس نے کہا کہ کرنل شنکر
سخت بھی ہے مگر نرم دل بھی بہت ہے میرے اپینڈکس کے آپریشن کے سلسلے میں میری فل ہیلپ
کی مجھے پھل وغیرہ لا کر دیتا رہا پیسے بھی دیتا ہے اس نے جو خاص بات لکھی وہ یہ
ہے کہ رات کو کرنل سوتے میں بھارتی حکومت اور فوج کو گلی دیتا ہے اور کہتا ہے
بھارت نے مشرقی پاکستان علیحدہ کروا کر بہت بڑی غلطی کی ہے آئندہ جو بھی جنگ ہو گی
وہ ایٹمی جنگ ہو گی اس جنگ میں سب مسلمان اکھٹے ہو جائیں گے اور بھارت اکیلا رہ
جاے گا بھارت کو ٹکڑے ہو نے سے کوئی نہیں روک سکتا ایٹمی جنگ مسلمان تو برداشت کر
لیں مگر ہندو وہ برداشت نہیں کر پائیں گے اور پھر جو بغاوت ہوگی اس بغاوت میں
بھارت چھوٹے چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو جاے گا اس لیے میں دعا کرتا ہوں کہ اس جنگ
سے پہلے بھارت ٹکرے ٹکڑے ہو جاے تاکہ وہ ایٹمی جنگ نہ ہو سکے. یہ سب باتیں کرنل
شنکر خواب میں سوتے ہوئے بولتا تھا
اس تحریر کو پڑھ کر میں نے اندازہ لگایا
کہ عبدالکریم قَابل اعتماد آدمی ہے اور دوسرا میں نے فیصلہ کیا کہ کرنل شنکر کے مزید
قریب ہو کر اس سے اہم معلومات حاصل کروں
عبدالکریم نے یہ بھی لکھا کہ صبح جب
وہ بیدار ہوتا ہے تو مجھ سے رات والی اپنی ساری باتیں پوچھتا ہے جب میں اسے بتاتا
ہوں تو کہتا ہے شکر ہے تم نے سنی کسی اور نے نہیں سنی پھر مجھے وہ 15 روپے دے دیتا
ہے اور کہتا ہے کھاؤ پیؤ اور جان بناؤ کیونکہ آئندہ جنگ میں تم مسلمانوں نے بہت
اہم رول ادا کرنا ہے
یشونت کے دیئے ہوئے سویپرز کے نام میں
نے اپنے ان دو ساتھیوں کو جو پہلے ہی سویپرز کی نگرانی کر رہے تھے انہیں ان 3سویپرز
کو ہینڈل کرنا تھا ثمی کی ماں کی دی ہوئی مہلت ابھی باقی تھی اور میں اس مہلت میں
اضافہ بھی کروا سکتا تھا یشونت کو سیف کی چابیاں بنوانے اور مطلوبہ فائلیں نکالنے
میں جو دشواریاں پیش آ سکتی تھیں وہ بھی میرے پیش نظر تھیں لیکن میں اور میرے ساتھیوں
کا حال یہ تھا کہ صبح سے شام تک یشونت کے دفتر آنے تک کامیابی کی آس لگائے بیٹھے
رہتے تھے شام کو جب یشونت سر جھکائے خاموشی سے گزر جاتا تو ہم سب بھی مایوس ہو
جاتے تھے یہ دراصل تارا پور کے ایٹمی بجلی گھر کے متعلق معلومات کی اہمیت اور ون
ٹائم مشن ہونے کیوجہ سے تھا بعض اوقات مجھے خیال آتا کہ یشونت اپنی مہم کے خطرات
کے پیش نظر کہیں اس کام سے دست بردار ہی نہ ہو جاے ایسی صورت میں زری کے ساتھ اس کی
نازیبا فوٹو اور ہیڈ کوارٹر کی وہ فائل جس پر کلاسیفائیڈ اینڈ کنفیڈیشنل لکھا تھا
کی دیتے وقت جو فوٹو لی تھی اس کا سہارا لینا پڑتا لیکن میں چاہتا تھا کہ یشونت
اپنی دیرینہ خواہش کی طلب میں یہ کام کرے جب ثمی کی ماں کی دی ہوئی مہلت ایک دن
باقی رہ گئی تھی تو یشونت نے دفتری ڈاک کے ساتھ ایک خط دیا جسے میرے ساتھیوں نے
فوری مجھے پہنچا دیا خط میں یشونت نے گولچہ سینما کے ریسٹورنٹ میں آج ہی ملنے کا
کہا تھا اور وقت بھی خود ہی طے کر لیا تھا مقررہ وقت پر میں ریسٹورنٹ پہنچا تو یشونت
کی حالت ناگفتہ تھی اس کا چہرہ اسکی مایوسی اور ناکامی کی وجہ سے بجھا ہوا تھا اس
نے بتایا کہ جنرل کئی روز سے دفتر نہیں آ رہا اور اس نے ایک ہفتے کی چھٹی لے رکھی
ہے جس میں سے 4 دن گزر چکے ہیں اور چھٹی سے پہلے کے دو دنوں میں نہ ہی جنرل نے اس
طلب کیا اور نہ ہی موقع مل سکا کہ جنرل کے دفتر میں داخل ہو سکوں وہ جب بھی جنرل کے
دفتر کیطرف گیا. میٹنگ ہو رہی ہوتی تھی یشونت اپنی ناکامی سے حد درجہ مایوس تھا
اسے لگا اب ثمی کا حصول ناممکن ہو گیا ہے میں نے اسکی ڈھارس بندھائی اور کہا کہ
جنرل کی چھٹی ختم ہونے دو پھر موقع مل جاے گا یشونت نے کہا کہ موقع تو یقیناً مل
جاے گا مگر بے فائدہ ہو گا ثمی کی ماں کی دی ہوئی مہلت تو کل ختم ہو رہی ہے یہ ایسا
موقع تھا جس میں یشونت کی مدت بڑھا کر اسے تروتازہ کرنا تھا میں نے یشونت سے کہا
کہ وہ دل چھوٹا نہ کرے ثمی یقینا اسے ہی ملے گی میں نے اسے 1000ہزار روپ دیئے اور
کہ ٹھیک 9 وہ اسے ثمی کے بالاخانے پر ملے گا ثمی کی ماں کو مزید مہلت دینے کے لیے
منانے کی کوشش. کروں گا یشونت اور میں اکھٹے ریسٹورنٹ سے باہر نکلے وہ اپنے گھر کیطرف
چلا گیا اور میں نے ٹیکسی پکڑی اور سیدھا ثمی کے بالاخانے پر پہنچ گیا میں دراصل
محفل جمنے سے پہلے ہی ثمی کی ماں کو بریف کرنا چاہتا تھا جب میں وہاں پہنچا تو
محفل سجانے کے سامان ہو رہے تھے. میں نے ثمی کی ماں سے علیحدگی میں لے جا کر کہا
کہ آج رات میں اور یشونت 9 بجے تمہارے ہاں آئیں گے یشونت کا مہلت مانگنے پر پہلے
تم انکار کر دینا میرے بہت زیادہ اصرار کرنے اور یشونت کے لیے میرے 5000 ہزار پیشگی
دینے پر اسے مزید 10 دن کی مہلت دے دینا یہ باتیں سمجھا کر میں واپس ہوٹل چلا آیا
9 بجے تک تیار ہو کر اور پیسے لے کر میں پھر چاوڑی بازار میں ثمی کے بالاخانے کے
قریب پہنچ گیا یشونت وہاں پہلے ہی پان کی دوکان پر کھڑا تھا کہنے لگا میں تو ساڑھے
آٹھ بجے ہی یہاں پہنچ گیا تھا اور پان کی دوکان پر ہی سے سوڈا اور گلاس لے کر موڈ
بنا رہا تھا ہم دونوں ثمی کے بالاخانے میں اکھٹے داخل ہوئے محفل شروع ہو چکی تھی میں
نے ثمی کی ماں کو اشارے سے پچھلے کمرے میں بلایا وہ کمرے میں آ گی اور ساتھ ہم
داخل ہو گئے میں نے یشونت سے کہا جو کہنا ہے جلدی جلدی کہہ ڈالو یشونت نے مزید مدت
مانگی تو ثمی کی. ماں نے صاف انکار کر دیا کہنے لگی صاحب جی ہم لوگ تو کھلی کتاب کیطرح
ہیں اس بازار میں ہر طرف ثمی ثمی ہو رہا ہے ایک سے بڑھ کرایک بولی لگانے کو تیار ہے اور ادھر آپ ہیں
کہ دوسری بات مہلت مانگ رہے ہیں ثمی کو حاصل کرنا ہے تو اسکے خواب دیکھنے کے لیے بھی جیب بھری ہوئی ہونی
چاہیے یہ تو محض یشونت بابو کے پرانے گاہک ہونے کے اسے بتا دیا تھا ورنہ انہیں بھی
دوسروں کیطرح دعوت نامہ ہی ملتا اب میں بہت جلد ثمی کی یہ رسم ادا کر دوں گی گاہک
تو پہلے ہی میرے اشارے کے منتظر ہیں یشونت نے کئ بار گڑگڑا کر مہلت مانگی لیکن وہ
پرانی گھاگ ٹس سے مس نہ ہوئی میں نے جب یہ دیکھا کہ یشونت بلکل ہو مایوس ہو چلا ہے
تو میں ثمی کی ماں سے کہا آپ یہ نہ سمجھیں کہ یشونت بابو کے پاس پیسے نہیں ہیں
انہوں نے پیسے کہیں لگا رکھے ہیں بس ان وصولی باقی ہے اور اب بس چند روز کی بات ہے
آپ اپنی رسم کی تیاری کریں یہ کہتے ہوئے میں نے 5ہزار روپے ثمی کی ماں کو دے دیئے
اور کہا یہ 5ہزار پیشگی ہے آپ آج سے دسویں
روز رسم کی تیاری رکھیں اس سے پہلے ہی آپ کو بقیہ رقم مل جاے گی بڑھیا نے 5ہزار تو فوراً دبوچ لیے اور بولی باقی
30 ہزار تو ثمی کے ہوے اور رسم کی ادائیگی یونہی نہیں ہوتی اس بازار کے بالاخانے
والوں کی دعوت ہوتی ہے ہم سب اپنے گاہکوں کو بھی دعوت دیتے ہیں رات گئے تک بازار کی
سب لڑکیاں مجرا کرتی ہیں ثمی کے لیے جوڑا بھی سلوانا ہے اور یشونت بابو ثمی کو منہ
دکھائی کے لیے 12 تولے کا سیٹ بھی دینا ہے اور سب اخراجات یشونت بابو کو ہی دینے
ہوں گے میرے پوچھنے پر ثمی کی ماں نے کہا کہ مزید 10 ہزار روپے خرچ ہوں گے میں نے
اسے کہا کہ وہ 30 ہزار کے ساتھ آپکو مل جائیں گے آپ بس تیاری کریں سب باتیں طے کر
کے ہم کمرے سے باہر ہال میں آ گئے محفل ابھی صحیح طرح جمی نہیں تھی یشونت خوشی سے
پھولا نہیں سما رہا تھا ثمی کی ماں نے
مجھے بیٹھنے پر بہت زور دیا مگر میں نے ایک ضروری کام کا بہانہ کر کے وہاں سے نکل
آیا جبکہ یشونت ابھی سے خود کو آدھا دلہا سمجھنے لگ گیا تھا اور بڑی شان سے محفل میں
بیٹھ گیا اسکی جیب میں میرے دیئے ہوے ایک ہزار روپے کلبلا رہے تھے میں نے چلتے
چلتے یشونت سے کہا کہ کل شام 7 بجے مجھے گولچہ کے ریسٹورنٹ میں ضرور ملے اگلے روز
شام کو یشونت مجھے گولچہ کے قریب ہی نظر آیا میں نے اسے ریسٹورنٹ میں جانے کا
اشارہ کیااور چند منٹوں کے وقفے کے بعد میں بھی ریسٹورنٹ میں داخل ہو کر اسکی ٹیبل
پر جا بیٹھا میرے دو ساتھی حسب معمول ہماری نگرانی کر رہے تھے
یشونت نے میرے بولنے سے پہلے ہی میرا بہت بہت شکریہ ادا کیا کہ
گذشتہ رات میں نے اس کے خوابوں کو بکھرنے سے بچا لیا تھا وہ جب چپ ہوا تو میں نے
کہا یشونت بابو میرے بس میں جو کچھ بھی تھا میں نے کر دیا اب آگے آپکی ہمت ہے
5ہزار میں نے ثمی کی ماں کو دیئے ہیں اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کر سکتا اب آپکو وہ
فائلیں ہر صورت لے کر آنی ہوں گی مزید 10 ہزار ثمی کی ماں نے رسم کے لیے مانگ لیے
ہیں میں وہ بھی ادا کر دوں گا لیکن اس کے لیے مزید آپ کو تھوڑا سا کام کرنا ہو گا
جنرل کے سیف میں صرف یہ دو فائلیں ہی نہیں ہوں گی بلکہ اور بھی بہت سی اہم فائلیں
ہوں گی جنرل کی آفیشل ڈائری بھی اسی سیف میں ہو گی آپ تارا پور کی دو فائلز کے
ساتھ دوسری اہم فائلز بھی مجھے لا کر دیں گے کیونکہ فائلز میں موجود کاغذات آپ ہی
ٹائپ کرتے ہیں اس جنرل سے جو پہلے جنرل تعینات تھے ان کی ڈائریاں بھی وہی موجود
ہوں گی کیونکہ جانے والے جنرل یہ ڈائریاں اپنے ساتھ نہیں لے جاتے بلکہ نیو آنے
والے کی رہنمائی کے لیے وہی چھوڑ جاتے ہیں آپ یہ ڈائریاں بھی فائلز کے ساتھ ہمراہ
ضرور لائیں. یشونت میری باتیں بہت غور سے سن رہا تھا میں نے سلسلہ کلام جاری رکھتے
ہوئے کہا کہ یشونت بابو جس دشت میں آپ نے قدم رکھا ہے وہاں ہر ہر لمہے آپکو پیسوں
کی ضرورت پڑے گی ثمی کو محض اپنا بنا کر رکھنے کے لیے ہر
ماہ آپ کو اسے معقول رقم دینی ہو گی
آپکو ثمی کی فرمائشیں پوری کرنے کے لیے بھی خاصی رقم کی ضرورت رہے گی آپکی اس مد میں
سب ضروریات میں پوری کروں گا لیکن آپکو ہماری ضروریات پوری کرنا ہوں گی اگر آپکا
بھر پور تعاون ملتا رہا تو آپکو پیسوں کی کبھی کمی محسوس نہیں ہو گی میری ساری
باتوں کے درمیان یشونت صرف مجھے ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا تھا میں خاموش ہوا تو چند
لمہے وہ خاموش رہا پھر بولا صاحب مجھے آپ کے نام کا بھی نہیں علم اور نہ کبھی آپ
نے مجھے بتایا ہے اور نہ ہی میں نے کبھی پوچھنے کی ہمت کی ہے لیکن ثمی کے بالاخانے
پر آپ سے اتفاقاً ملاقات ہو گئی اس پہلی ملاقات سے لے کر آج تک جو حالات گزرے ہیں
اس سے مجھے مجھے یقین ہو گیا ہے کہ آپ کس ملک کے لیے کام کر رہے ہیں آپ سے تعاون
کرتے ہوئے میں خود گلے تک پھنس چکا ہوں میری واپسی کی کوئی صورت نہیں ہے اور آپ کے
ساتھ تعاون میں ہی میری بقا ہے میرے خلاف آپکے پاس اتنے ثبوت ہیں کہ آپ مجھے زندہ
درگور کر سکتے ہیں اور پھانسی پر چڑھوا سکتے ہیں اس کے علاوہ میرے آدمی تمہیں گولی
بھی مار سکتے ہیں میں نے اس کی بات کاٹی یشونت
نے کہا آپ بلکل صحیح کہہ رہے ہیں میں آپ سے بھر پور تعاون کرنے کو تیار ہوں میری
اولاد میری دشمن ہے اور انہوں نے گھر میں ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں کہ مجھے گھر
سے ہی نفرت ہو گئی ہے کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کسی ایسی جگہ چلا جاؤں جہاں پر مجھے
کوئی نہ جانتا ہو میری ساری زندگی دفتر میں کام میں گزری ہے جمع پونجی کچھ بھی نہیں
ہے جس اولاد کے اوپر اپنی حیثیت سے بڑھ کر اس لیے خرچ کیا کہ وہ بڑھاپے میں میری
لاٹھی بنیں گے وہی مجھے گھر سے نکالنے کی تدابیر کر رہے ہیں پہلے میرا کمرہ گھر میں
سب کھلا اور ہوا دار تھا اور اب ایک کونے کی کوٹھری ہی میں اوڑنا بچھونا ہے مجھے
بتائے بغیر میرا ذاتی سامان اور ایک کھاٹ اس کوٹھری میں ڈال دی گئی ہے جوان بیٹے
اور بیٹیاں ہونے کے باوجود خود ہی ٹھنڈا
کھانا برتنوں میں نکال کر زہر مار کرنا پڑتا ہے میرے ملنے والوں اور دوستوں کو گھر
آنے کی اجازت نہیں اپنے ہی گھر میں اجنبی بن کر رہ گیا ہوں ان حالات میں پہلے میں
نے شراب اور پھر ثمی کے بالاخانے پر غم اور دل بہلانا چاہے عارضی یا مصنوعی ہی صحیح
شراب اور ثمی نے مجھے سکون تو دیا لیکن اس سکوں کے حصول کے لیے مجھے پیسے کی ضرورت
تو ہے جو آپ پوری کر رہے ہیں آپ نے تعاون کی بڑی معقول قیمت ادا کی ہے اور ثمی کے
معاملے میں جس طرح آپ نے میری مدد کی ہے میں اسے کبھی نہیں بھولوں گا آج میں آپ کو
ایک اہم بات بتانا چاہتا ہوں جنرل کی سیف کے اندر ایک ایسا خانہ بنا ہوا ہے جو ایک
علیحدہ چابی سے کھلتا ہے اور روز میں نے جنرل کو اس خانے میں ایک نقشہ جس پر مختلف
لکیریں کھینچی گئی تھیں اور چند اہم کاغذات رکھتے ہوئے دیکھ لیا جنرل اس وقت میٹنگ
سے فارغ ہوا تھا جب مجھے ٹائپنگ کے لیے بلایا گیا میں نے جو کچھ ٹائپ کیا اس کی
کاپیاں پردھان منتری نیول اور آئر ہیڈ کوارٹر بھیج دی گئیں تھیں ٹائپ شدہ اصل
کاغذات جنرل نے نقشے کے ساتھ ہی رکھوا دئیے تھے ٹائپ کرنے کی وجہ سے مجھے معلوم ہو
گیا کہ یہ پاکستان پر حملہ کرنے کا مفصل پلان تھا وہ نقشہ اور کاغذات اب بھی سیف میں
محفوظ ہیں اور میں کوشش کروں گا کہ وہ بھی آپ کو لا دوں اور مجھے یقین ہے کہ آپ
مجھے اس کام کا بھی. معقول معاوضہ دیں گے یشونت نے آج پہلی بار میرا پاکستان کے
ساتھ وابستگی کا ذکر کیا تھا اور میں حیران تھا کہ آج سے پہلے اس نے یہ بات کیوں
نہیں کی حالانکہ بے تکلفی کے کئ موقعے آے تھے جب وہ یہ بات مجھ سے کر سکتا تھا شاید
یہ میری دھمکیوں اور میرے ساتھیوں کی گولیوں کے خوف سے اسے یہ بات بولنے کی جرآت
نہیں ہوئی تھی اور آج آخر وہ دل کی بات زبان پر لے ہی آیا میں نے اسے کہا کہ دیکھو
یشونت جیسے کہ ہم سب کچھ جانتے ہوے بھی ہم نے کبھی اس مسئلے پر بات نہیں کی آئندہ
بھی نہ کریں تمہیں صرف اتنا یقین دلاتا ہوں کہ مالی تعاون کے علاوہ تمہاری سیکیورٹی
کا بھی ذمہ لیتا ہوں اگر تم کسی مصیبت میں پھنس گئے تو تمہیں بچانے کے لیے اگر
درجنوں لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنا بھی پڑا تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے کھیل جائیں
گے مگر تم پر آنچ نہیں آنے دیں گے جنگی نقشہ جات اور ان کاغذات کا ہم تمہیں بہت
معقول معاوضہ دیں گے اگر وہ ہمارے کسی کام آسکے یا ہمارے لیے اہم ہوے تو تھوڑی دیر
مزیر گفتگو کرنے کے بعد میں ریسٹورنٹ سے چلا آیا اب تک ہر کام حسب منشا ہو رہا تھا
اب صرف یشونت کی طرف سے کامیابی کا انتظار تھا اور میرا اک اک لمحہ یہی خبرسننے کے
لیے بے چینی سے گزر رہا تھا.اس ملاقات کے بعد یشونت نے دو مرتبہ میرے ساتھیوں کو
ڈاک کے پیپر دیئے اور وہ ان کی کاپیاں کر کے وہ پہنچا دیتے تھے اور ساتھ فوٹو
بھی بنا لیتے تھے مجھے اچھی طرح یاد ہے وہ ہفتے کا دن تھا سردی خاصی بڑھ چکی تھی
اور میں اپنے کمرے میں صوفے پر نیم دراز اخبار پڑھ رہا تھا سپہر 4 بجے کے قریب فون
کی گھنٹی بجی دوسری طرف سے میرا ایک ساتھی بول رہا تھا خوشی سے اس کے منہ سے بات
نہیں نکل رہی تھی اس نے کہا صاحب ڈاک مل گئی ہے اور سب کام ہو گیا ہے اسکی اآواز
سے ہی مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ یشونت نے معرکہ سر کر لیا ہے میں اپنے ساتھی کو
کہا کہ وہ فوراً گھر چلا جاے میں بھی وہی آ رہا ہوں خوشی کے مارے میرا بھی برا حال
تھا میں نے جلدی جلدی کپڑے تبدیل کیے اور ٹیکسی لی ساتھیوں کے گھر کیطرف روانہ ہو
گیا راستے میں یہ سوچتا جا رہا تھا کہ اللہ کے کرم اور فضل سے ہمارے سارے راستے خو
بخود کھلتے جارہے ہیں اور مشکل سے مشکل کام ہمارے لیے آسان کر دئیے ہیں اور اتنی
بڑی کامیابی صرف اللہ پاک کے فضل و کرم سے ہی ملی تھی
ساتھیوں کے گھر پہنچا تو انہوں نے
دروازہ بند کر کے تھیلا میرے سامنے الٹ دیا میرے سامنے فرش پر تاراپور بجلی گھر
اور ٹاٹا ریسرچ سنٹر کی دو فائلیں اور چار عدد ڈائریاں جن پر سرخ پٹییاں لگی ہوئی
تھیں اور ستارے بنے ہوے تھے اور اور ایک علیحدہ پیکٹ میں نکالے ہوئے کاغذات اور
نقشہ اور معمول کی ڈاک تھی.