غازی

قسط نمبر 15
پیشکش . عارف چیمہ
تحریر ابو شجاع ابو وقار
ٹیکسی ڈرائیور حیران تھا کہ تین آدمی
اتنی جلدی فارغ کیسے ہو گے میں نے اسے واپس چاوڑی بازار چلنے کو کہا گلی کے قریب
پہنچ کر میں نے گاڑی رکوائی اور زری کو واپس چلے جانےکو کہا لیکن اس نے کہا کہ
مجھے گھر تک چھوڑ کر آئیں ورنہ پولیس والے مجھے زبردستی ہمراہ لے جائیں گے میں زری
کو اسکے کمرے کے پاس چھوڑ کر واپس پلٹا تو وہی پولیس والے وہاں موجود تھے 50 روپے
کی رشوت کی گرمی کیوجہ سے وہ میرے جانے اور واپس آنے پر مسکراے اب میں نے ٹیکسی
ڈرائیور کو ریلوے اسٹیشن پر چلنے کا کہا ریلوے اسٹیشن پر ہم نے یہ ٹیکسی چھوڑ کر
دوسری ٹیکسی لی اور یشونت کے گھر کیطرف روانہ ہوے یشونت کے گھر کی گلی سے چند قدم
دور میں نے ٹیکسی رکوائی میں ٹیکسی میں بیٹھا رہا اور میرا ساتھی سوے ہوئے یشونت
کو اسکے گھر چھوڑنے چلا گیا بقول اس کے یشونت کے لڑکے نے دروازہ کھولا تھا میرے
ساتھی نے یشونت کو اس کے حوالے کیا اور تیزی سے واپس آ گیا یشونت کے لڑکے نے میرے
ساتھی سے کوئی سوال نہ کیا شاید یہ اسکے روز کا معمول تھا. میں نے اپنے ساتھی کو
محلہ فراش خانہ کے قریب اتار دیا اس سے لی ہوئی رقم اسے واپس لوٹا دی اور کہا کہ
فلم ارجنٹ واش کروا کر ہر فوٹو کی تین تین کاپیاں بنوا لینا میں اگلی شام 7
بجے چارڑی بازار کے اسی ریسٹورنٹ میں ملوں
گا ساتھی کو رخصت کر کے میں نے ٹیکسی ڈرائیور کو نیو دہلی چلنے کو کہا لودھی ہوٹل
سے آگے گزر کر میں نے ٹیکسی کو فارغ کیا اور ٹہلتا ہوا واپس ہوٹل آ گیا قارئین
کرام آپ داستان کا یہ حصہ پڑھ کر یا آئندہ آنے والے واقعات پڑھ کر آپ مجھے گرا ہوا
بلیک میلر اور نہ جانے کیا کیا کہیں گے مگر بخدا میں نے جو بھی کیا وطن کی خاطر کیا
اس میں میرا اپنا ذاتی کوئی مفاد نہیں تھا دشمن اپنے ملک کے دفاعی راز طشتری میں
رکھ کر پیش نہیں کرتا بھارت نے پاکستان کو کبھی دلی طور پر آج تک تسلیم نہیں کیا
وہ ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتا ہے کہ پاکستان کو ختم کرکے اپنے اکھنڈ بھارت کا
خواب پورا کر سکے 11 ستمبر 48ء کو پاکستانی قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات
پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی تھی اور قائد کی تدفین میں مصروف تھے کہ بھارت نے موقع
کو غنیمت جانتے ہوئے حیدر آباد دکن پر حملہ کر دیا اور اس بڑی اور متمول جو اپنی
خودمختاری کا اعلان کر چکی تھی کو قبضے میں لے کر اپنے اندر ضم کر لیا کشمیر میں 7
لاکھ فوج بھیج کر ان کشمیریوں پر ظلم اور بربریت سے بھی بڑھ کر کھلی چھوٹ دے دی
شرابی کبابی یحییٰ خان کے دور حکومت میں پاکستان کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کی چپقلش
کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مشرقی پاکستان پر حملہ کر کے پاکستان کو دولخت کر دیا ایسے
دشمن سے کبھی خیر کی توقع نہیں دوسری بات جو عرض کرنی ہے کہ ہم پانچ ساتھی بھارت میں
ہندو بن کر رہ رہے تھے اور ہم نے اپنے وطن کی بقا کے لیے دشمن کے دفاعی راز چوری
کرنے گئے تھے ناکہ کسی تبلیغی مشن پر ہم نے والئنٹئر کیا تھا کہ ہم بھارت میں ہندو
بن کر رہیں گے اور اپنا کام سرانجام دیں گے مشن کے آخری دور میں میں اپنوں کی غداری
کیوجہ سے پکڑا گیا اور تھرڈ ڈگری کا 1 ماہ 6دن بھر پور استفادہ کیا ان کی مہمان
نوازی کے ثبوت آج بھی میرے جسم پر موجود ہیں
اگلے روز میرے دو ساتھی مجھے چاوڑی
بازار کے اس ریسٹورنٹ میں ملے وہ مجھے دیکھتے ہی ہنستے ہوئے میرے پاس بیٹھ گئے اور
رات کھینچی گئی 12 تصاویر کا سیٹ میرے سامنے رکھ دیا یہ تصاویر بلکل صاف آئی تھیں
اور فلش نے پیچھے جھاڑی کو بھی نمایاں کر دیا تھا دو سیٹ اور نیگیٹو وہ احتیاطی
طور پر گھر چھوڑ آے تھےان تصویروں کیوجہ سے یشونت مجھے بلکل بے دستوپا نظر آ رہا
تھا اسکی کمزوری ہاتھ آ چکی تھی اب مجھے کرنا یہ تھا کہ یشونت سے مل کر اسے یہ تصویریں
دکھا کر اس کے بھیانک انجام کی تصویر کشی کرنی تھی تاکہ وہ میری ہر بات ماننے پر
مجبور ہو جاے میں نے فیصلہ کیا کہ یشونت کو ملنے کے لیے دو تین دن کا وقفہ لیا جاے
گذشتہ رات وہ اتنا مدہوش تھا میری تمام کاروائی کے دوران اس نے ذرا بھی مذاہمت نہیں
کی تھی اگر اسے کوئی بات یاد آ ئی بھی تو شاید وہ اسے خواب سمجھے اگر سب کچھ یاد آ
بھی جاے تو اس سے سنبھل جائے اسے فوری ملنے اور تصویر دکھانے سے ہو سکتا ہے کہ وہ
خود ہی اپنے افسران کو سب کچھ بتا دے میں اسے چند روز شش و پنج میں رکھنا چاہتا
تھا ہم ریسٹورنٹ میں تین چار گھنٹے بیٹھے رہے لیکن اس رات یشونت نہیں آیا جو یشونت
کے ساتھ کیا کہ ہمارا طے شدہ منصوبہ تھا لیکن بدقسمتی سے پہلی رات ہی ہمیں یہ مکمل
کرنے کا موقع مل گیا لیکن اب مجھے بازی جیتنے کے لیے پتے نہایت ہوشیاری سے کھیلنے
تھے میں نے ساتھیوں سے کہا جو عیسائی سویپرز کے پیچھے لگے ہوے ہیں ان کو کہنا کہ
اپنا کام نہایت ہوشیاری اور تیزی سے ختم کریں میں چاہتا تھا کہ اگر یشونت کو قابو
کر لیا تو عیسائی سویپرز کے ذریعے مزید کام جاری ہو سکے میں نے اٹھتے ہوئے دونوں
ساتھیوں سے کہا کہ وہ اگلی صبح یشونت کی نگرانی کریں اور دیکھیں کہ وہ دفتر جاتا
ہے کہ نہیں اس کے چہرے سے اس کے تاثرات کا اندازہ لگائیں اور ہر شام اسی ریسٹورنٹ
میں بیٹھ کر اس کا انتظار کریں جونہی وہ بالاخانے جاے تو ایک اس کا پیچھا کرے اور
دوسرا اکبر ہوٹل کی لابی میں آ کر مجھے انفارم کرے غرض ان انتظامات کے بعد چار روز
تک میں نے یشونت کا انتظار کیا لیکن وہ چاوڑی بازار کی طرف نہیں آیا دوسرے سویپرز
کی نگرانی کرنے والے ساتھیوں کی طرف سے بھی کوئی مثبت نتائج نہیں مل رہے تھے ان
حالات کے پیش نظر میں خود یشونت سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ مزید وقت ضائع نہ
ہو میں نے ایک ساتھی کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ اس کے دفتر واپسی کے وقت اس ساتھ بس میں
سوار ہو جاے اور کسی بس سٹاپ کے نذدیک پہنچ کر ایک چٹ اسکے ہاتھ میں تھماے اور اتر
کر غائب ہو جاے اور دوسرا ساتھی اس کے گھر کے سٹاپ تک اسکی خفیہ نگرانی کرے اور دیکھے
کہ یشونت گھر جاتا ہے یا اس چٹ پر لکھے ہوئے پتے پر جاتا ہے اور اس بات کا بھی خیال
رکھے کہ یشونت کا پیچھا تو نہیں کیا جا رہا چٹ پر میں انگلش میں لکھا کہ چٹ پڑھ کر
اس پر لکھے مطلوبہ ایڈریس پر گھر جانے سے پہلے پہنچ جاؤ ورنہ تمہیں اور تمہارے گھر
والوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے میرے ساتھی تمہاری نگرانی میں ہیں
یہ سارا کام آئندہ روز ہونا تھا میں
اس مشن کی تکمیل کے لیے بس میں چٹ دینے والے ساتھی اور خود کو یشونت کے سامنے
Expose کرنے کا خطرہ مول لے رہا تھا لیکن اس کے سوا کوئی
چارہ نہ تھا میں نے اپنے چاروں ساتھیوں کے سامنے یہ تجویز رکھی فیصلہ تو میں کر
چکا تھا انہیں بھی تو رسمی طور پر بتانا تھا سب نے میری تجویز مان لیکن ایک کام کا
انہیوں نے اضافہ کر دیا چٹ سے لے کر یشونت سے ملاقات تک اور بعد میں مقررہ مقام پر
پہنچنے تک وہ مُسلح ہو کر میری نگرانی کریں گے تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں وہ میرا
بچاؤ کر سکیں. میں نے یہ بھی مان لیا پلان تیار ہوگیا اور اگلے روز اس پر عمل پیرا
ہونا تھا
اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میرے ساتھی
مشن کی کامیابی کے ساتھ ساتھ میری زندگی اور تحفظ کے لیے کتنے مستعد تھے اسی لیے میں
اپنی پانچ کے گروپ کو فائیو مین آرمی کہتا تھا
میں نے اپنے کیمرے والے ساتھی سے کہا
کہ جب میں اور یشونت ریسٹورنٹ سے باہر نکلیں تو اس کی اور میری ایک تصویر بنا لیں
چونکہ شام ہو چکی ہو گی اس لیے فلش گن کا استعمال لازمی کرے
یہ تمام ہدایات دے کر میں ہوٹل واپس آ
گیا بھارت میں آنے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ میں خود کو بطور مسلمان اور پاکستانی
ایک اہم شخص کے سامنے ظاہر کر رہا تھا اس میں کامیابی اور ناکامی دونوں کے 50 ففٹی
چانس تھے
میں نے اپنی طرف سے ہر طرح کی منصوبہ بندی کی تھی چٹ ملنے کے
بعد یشونت کو کوئی موقع نہیں دیا گیا کہ وہ اپنے افسران سے مل سکے لیکن یہ بھی ممکن تھا کہ جھاڑیوں میں پیش آنے
والا واقعہ اسے یاد ہو اور اس نے اپنے افسران کو بتا کر چوکنا کر دیا ہو ہمارے
آئندہ اقدام کو ناکام بنانے کے لیے یشونت کی نگرانی اور حفاظت کا بندوبست کر دیا گیا
ہو اور ساتھ ہی ہمیں ٹریپ کرنے کا بھی انتظام کر دیا گیا ہو ایسے حالات میں پیش
آنے والے واقعات سے میں بخوبی واقف تھا لیکن میری چھٹی حس مجھے کہہ رہی تھی کہ ہم
اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوں گے میری تربیت کے اختتام پر میرے سئنرز نے جو میری
روپورٹ بگ باس کو بھیجی تھی وہ مجھے بھی دکھائی گئی تھی اسکی آخری سطور مجھے اب بھی
یاد ہیں
In my opinion he is an indestructible optimistic
ترجمہ. میرا خیال ہے کہ یہ ایک نہ
ٹوٹنےوالا پر امید شخص ہے
مجھے اپنے سئنرز کے ان الفاظ کی لاج
بھی رکھنی تھی اور سب سے زیادہ مجھے اپنے اللہ پر بھروسہ اور یقین تھا کہ وہ دلوں
کے بھید خوب جاننے والا ہے اسکے نام پر بناے گے ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے جو
بھی میں غیر اخلاقی کام کیے ہیں وہ اسکی اصلیت اور بخوبی جانتا ہے ان شاء اللہ
مجھے کامیابی ضرور ملے گی
میں نے اگلی صبح یشونت کے گھرانے اسکی
بیٹی اور اس کے آشنا اور دیگر افراد اور یشونت کی زری کے ساتھ پکچرز کو الگ الگ
لفافے میں ڈال کر رکھ لیں اور اپنا اسلحہ لوڈ کیا اور فالتو راؤنڈ بھی ساتھ لیے
اور اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا وہ بھی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے میں نے اپنے
پکڑے جانے کی صورت میں چارج اپنے نمبر 2 حوالے کیا میرے ساتھی کچھ مرجھائے ہوے سے
لگ رہے تھے میں نے ان کو تسلی دی اور ہنسی مذاق سے ان کا دل بہلایا میں ہوٹل سے
اپنے ہمراہ احمد نگر کے فوٹو فلم اور یشونت کی ایکسڑا پکچرز اور ان کے نیگیٹو بھی
ساتھ لے آیا تھا وہ بھی میں نے اپنے نمبر 2 کے حوالے کر دیئے اب میرے کمرے میں کوئی
ایسی چیز نہ تھی جو مجھے قابل مواخذہ بناتی آخری ہدایات دینے کے بعد میں نے ساتھیوں
سے رخصت چاہی شام 4بجے کے قریب میں سراے بیرم خان کے اس ریسٹورنٹ میں پہنچ گیا
جہاں یشونت کو ملاقات کے لئے بلایا گیا تھا تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ میرے دو ساتھی
بھی نظر آ گئے ایک کے پاس ایک بیگ میں کیمرہ اور فلش گن تھی ہم آپس میں دوسرے سے
فاصلے پر ایک چھپر نما چاے خانے میں بیٹھ گئے جلد ہی میرا وہ ساتھی بھی آ گیا جس
نے بس میں یشونت کو چٹ دینی تھی وہ اس چاے خانے کے قریب کھڑا ہو گیا اور اشارے سے
مجھے اپنے قریب بلایا میں ٹہلتا ہوا اس کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا کہ بس میں یشونت
کو چٹ دینے کے بعد بس میں اتنا رش ہونے کیوجہ سے یشونت اسے دیکھ نہیں سکا اور اسی
رش میں وہ بس سے مسافروں کے ساتھ نیچے اتر آیا اور دوسرا ساتھی بس میں یشونت کی
نگرانی کر رہا ہے میں نے اسے بتایا کہ دو ساتھی پہلے ہی آ چکے ہیں اور اب یشونت
اور چوتھے ساتھی کا انتظار ہے اب ہم سب امید و بیم کی کیفیت میں یشونت کا انتظار
کر رہے تھے اور دل ہی دل میں اس گفتگو کا اعادہ اور اسے مزید پر اثر بنا رہا تھا
جو میں نے یشونت سے کرنی تھی اسی گفتگو پر ہمارے اس مشن کا دارومدار تھا میں چاہتا
تھا کہ یشونت کو ہمارے ساتھ تعاون نہ کرنے کا وہ بھیانک دور شروع کروں گا جو اس
ہوٹل سے شروع ہو کر اس کے سارے خاندان کو لے ڈوبے گا اور اگر وہ تعاون کرتا ہے تو
پھر اس کی حفاظت اور مالی لالچ دے کر اسے اپنے راست پر چلانا ہے قریب 6بجے اسی
ہوٹل میں سے گزرتے ہوئے میرے ساتھی نے سیٹی بجائی میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے
ہاں میں سر ہلایا یہ یشونت کی آمد کی اطلاع تھی شام کے ڈھلتے ساے میں میں نے مردہ
قدموں سے یشونت کو ریسٹورنٹ میں داخل ہوتے دیکھا اس کے کچھ فاصلے پر میرا وہ ساتھی
جو اس کے تعاقب میں تھا نظر آیا میں چھپر ہوٹل سے اٹھا اور اس ساتھی کے قریب سے
گزرا اس نے سرگوشی میں کہا کہ یشونت گھر سے بہت پہلے ایک سٹاپ پر اتر کر سراے بیرم
خان کی بس پر سوار ہو گیا تھا میرا ساتھی بھی اسی بس میں سوار ہوا کوئی نگرانی نہیں
ہو رہی سب اوکے کی روپوٹ کے بعد. میں ریسٹورنٹ کیطرف گیا ریسٹورنٹ میں یشونت کونے
کی ایک میز پر بیٹھا ہوا تھا پریشانی اس کے چہرے سے عیاں تھی میں جب اس کی میز کے
سامنے گیا تو اس نے مجھے دیکھا تو یک دم چونک گیا اسکی گھبراہٹ اور بڑھ گئی اور اسی
گھبراہٹ میں پانی کا گلاس اس کے ہاتھ سے گر گیا میں یشونت کی ساتھ والی کرسی پر بیٹھ
گیا اور ویٹر کو دو کافی اور سنیکرز لانے کا کہا یشونت اپنی گھبراہٹ میں نمستے اور
رسمی کلمات بھی بھول گیا تھا وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھتا جا رہا تھا میں
نے کہا یشونت بابو میں نے ہی آپ کو یہاں بلایا ہے اور آپ سے کچھ اہم باتیں کرنی ہیں
یشونت نے مجھے ٹوکا اور کہا کہ آپ وہی ہیں نہ جو اس روز بالاخانے میں میرے ساتھ بیٹھے
تھے آپ کا شبھ نام کیا ہے میں نے ذرا تحکمانہ لہجے میں کہا کہ دیکھو یشونت جب میں
بات کر رہا ہوں تو مجھے مت ٹوکو یہ ثمی کا بالاخانہ نہیں ہے میری باتیں دھیان سے
سنو اور مجھے اپنے فیصلے سے آگاہ کرووہ حیران اور سراسیمہ مجھے دیکھے جا رہا تھا میں
نے ایک ایک کر کے اس کے لڑکے اور لڑکیوں کی تصاویر اس کے سامنے رکھ دیں اور ان کے
نام بھی بتا دیئے اور پھر اس کی لڑکی کے سکول اور اس کے آشنا کی تصویر بھی سامنے
رکھ دی ان تصاویر کو دیکھا کر میں اس کا رد عمل دیکھنا چاہتا تھا اس سے پہلے کہ وہ
کچھ بولتا میں نے کہا مسٹر یشونت میں تمہارے گھر والوں کے بارے میں تم سے زیادہ
جانتا ہوں اتنا تم بھی نہیں جانتے اور تمہارے بارے میں اک خاص بات اور یہ کہہ کر میں
نے جھاڑیوں والی 12 تصاویر اس کے سامنے رکھ دیں
یشونت ایک ایک تصویر دیکھتا جاتا اور
اسکی پریشانی اور گھبراہٹ بڑھتی جاتی آدھی تصاویر ہی دیکھ کر وہ حوصلہ ہار بیٹھا
اس کی پیشانی پسینے سے بھیگ چکی تھی اور اس کا جسم کا نہ رہا تھا میں نے تصاویر اس
کے سامنے سے اٹھا لیں یشونت بولا بھگوان کی قسم میں اس عورت زریں کو بلکل نہیں
جانتا وہ لڑکھڑاتی ہوئ زبان میں کہہ رہا تھا میں تو غریب آدمی ہوں سرکاری دفتر میں
ملازم ہوں پھر بھی بتائیں آپ کی ڈیمانڈ کیا ہے وہ سمجھ رہا تھا کہ میں رقم وصول
کرنے کے لیے اسے بلیک میل کر رہا ہوں میں نے اسے تحکمانہ لہجے میں کہا کہ اگرچہ میں
تمہارے متعلق سب کچھ جانتا ہوں مگر تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہوں جس دفتر میں تم
کام کرتے ہو وہاں تم اپنے ڈیپارٹمنٹ اور پوزیشن کے متعلق بتاؤ اس نے کہا کہ وہ
جنرل ہیڈ کوارٹر میں کاپینگ ڈیپارٹمنٹ میں سپریڈنٹ ہے تو پھر اس تنخواہ میں
بالاخانوں کی عیاشیاں کیسے کرتے ہو میں نے پوچھا تو وہ بولا گھر کا خرچہ تو میری بیٹی
جو ٹیچر ہے وہ چلاتی ہے باقی بچے جو پڑھتے ان کی فیس میں ادا کرتا ہوں وہ گڑ گڑا
کر بولا میں غریب آدمی ہوں مگر پھر آپ اپنی ڈیمانڈ بتائیں ساتھ ہی اس نے پوچھا کہ
اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو کیا آپ ملٹری انٹیلی جنس کے آدمی ہیں میں نے کہا ایک
طرف تم مجھ سے میری ڈیمانڈ جاننا چاہتے ہو اور دوسری میری شناخت بھی جاننا چاہتے
ہو میں نے اسے زور دار لہجے میں کہا یشونت میں یہاں تمہارے سوالوں کے جواب دینے نہیں
آیا تم چاروں طرف سے گر چکے ہو تمہاری یہ تصاویر ساتھ ہی میں نے تصاویر نکال کر اس
کے سامنے میز پر رکھ دیں تم کو تباہ برباد کر سکتی ہیں تم اپنی زندگی کا بقیہ حصہ
جیل میں گزارو گے اس عورت کے ساتھ ہاتھ میں نوٹ پکڑے تمہیں جیل میں ساری زندگی چکی
پیستے گزارنے کے لیے کافی ہیں تمہاری اولاد تمہارے رشتہ دار جب تمہاری زندگی کا یہ
گھناؤنا رخ دیکھیں گے تو تم پر لعنت بھیجیں گے تمہاری لڑکیاں بن بیاہی رہ جائیں گی
اور بالآخر بھاگ جائیں گی تمہاری ٹیچر بیٹی کو فوراً نوکری سے نکال دیا جائے گا
اور سب سے اہم اور بڑی بات اگر تم نے میرے ساتھ تعاون نہ کیا تو تم کو اس ریسٹورنٹ
سے باہر نکلتے ہی گولی مار دی جاے گی
گولی کا سن کر یشونت تھر تھر کانپنے
لگا میں نے کہا کہ یہ علاقہ مسلمانوں کی اکثریت کا ہے یہاں تمہاری لاش تک غائب کر
دی جاے گی دفتر سے نکل کر یہاں آنے تک کا
تمہارے متعلق کسی کو علم نہیں ہے آپنی باتوں کا رد عمل دیکھنے کے لیے میں ذرا رکا یشونت
کی حالت دیدنی تھی ایسے لگتا تھا کہ اسے ابھی ہارٹ اٹیک ہو جاے گا وہ کانپتے ہوے
ادھر ادھر ریکھ رہا تھا کہ ابھی کسی طرف سے گولی نہ آ لگے جب میں نے دیکھا کہ
گھبراہٹ سے اس کی دل کی دھرکن ہی نہ بند ہو جاے تو میں نے اسے پانی کا گلاس دیا
پانی پی کر بھی اسکی گھبراہٹ کم نہیں ہو رہی تھی میں نے کہا دیکھو یشونت اگر تم
تعاون نہیں کرو گے تو تمہارے ساتھ یہ سب کچھ ہو سکتا ہے اگر تعاون کرو گے تو
تمہارے ساتھ کچھ بھی نہیں ہوگا بلکہ الٹا تمہاری مالی اور دیگر امداد بھی کیجاے گی
وہ فوراً بولا بتائیں میں آپ کے ساتھ کیا کیا تعاون کر سکتا ہوں یشونت بریکنگ
پوائنٹ پر تو آ ہی چکا تھا اب میں مزید اسے جھٹکے دینا چاہتا تھا میں نے کہا سب سے
پہلے یہ بتاؤ کہ کس حد تک تعاون کر سکتے ہو میں دوبارہ کہتا ہوں مجھ سے سوال نہیں
کرنا بس میرے سوالات کا جواب دینا ہے تم کاپینگ برانچ میں سپریڈنٹ ہو تمہارے پاس ہیڈ
کوارٹر سے بھیجی جانے والی ڈاک کے علاوہ باہر سے آنے والی ڈاک کی بھی کاپیاں ہوتی
ہیں اس نے اثبات میں سر ہلایا میں نے پوچھا کی عموماً کتنی ڈاک روزانہ تمہارے پاس
آتی ہے اور کتنی جاتی ہے اور یاد رکھنا مجھے تمہارے دفتر میں آنے اور جانے والی
ڈاک کی تعداد کا علم ہے صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ تم کتنا سچ بولتے ہو یہ باتیں تم
سے پوچھ رہا ہوں یشونت میں اب قوت مدافعت نہ رہی تھی میں نے کہا کہ تمہاری زندگی
کا دارومدار تمہارے سچ بولنے اور ہمارے ساتھ تعاون کرنے پر ہے ہندو اگر کسی بات سے
زیادہ ڈرتا ہے تو وہ موت ہے اسی موت کر ڈر کی وجہ سے چند ہزار غیر ملکی مسلمانوں
نے ان پر کڑروں سال حکومت کی. اپنے اندر سے
موت کا خوف دور کرنے کے لیے انہوں نے اپنے ہاتھ سے کالی ماتا کی مورتی بنائی
مگر وہ مورتی بھی ان میں سے موت کا خوف
دور کرنے کا سبب نہ بن سکی کیونکہ ایک بے جان چیز خود کسی کو نفع یا نقصان نہیں
پہنچا سکتی.
یشونت نے بتایا کہ اوسط چالیس خطوط
روزانہ مختلف ڈویژنوں سے آتے ہیں اور تقریباً اتنے ہی ہیڈ کوارٹر سے باہر بھیجے
جاتے ہیں میں کلاسفائی خطوط کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ خطوط غیر کھولے ڈائریکٹ
مکتوب آلہ کو بھیج دئے جاتے ہیں لیکن بعد میں وہ خطوط دوبارہ میرے پاس فائلز میں
لگانے کے لیے آ جاتے ہیں ان سب کے انچارج تم ہو اس نے کہا ہاں میں ہوں کلاسفائیڈ
اور اہم خطوط تم ہی ٹائپ کرتے ہو گے میں یونہی سوال جڑ دیا ایسے خطوط ایک کلرک ٹائپ کرتا ہے لیکن.
کورکشن کے لیے پے میرے پاس آتے ہیں
میں نے چند لمہے تامل کے بعد یشونت سے
کہا کہ کیا تم میرے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہو اس نے کہا اس کے علاوہ چارہ کیا ہے
میں نے کہا کہ ایک دوسری صورت بھی ہے کہ ریسٹورنٹ سے باہر نکلتے ہی تم گولی مار دیتے
ہیں اور تم ہر قسم کے تعاون سے بچ جاؤ گے یشونت نے اپنے ہاتھ میں میرا ہاتھ پکڑ لیا
اور کہنے لگا نہیں نہیں سر ایسا نہ کیجئیے گا میں ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہوں
میں نے یشونت کی آنکھوں میں جھانکتے ہوے کہا اگر تم اپنی جان بچانے کے لیے جھوٹ
موٹ تعاون کی بات کر رہے کہ بعد میں مکر جاؤں گا تو یاد رکھو اگر تم نے ایسا کیا یا
کسی بھی قسم کی چالاکی کرنے کی کوشش کی تو پھر تمہارا اور تمہارے گھر والوں کا وہ
حشر ہوگا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے اپنے تعاون کے ثبوت کے طور پر کل تم پچھلے تین
ماہ کی کلاسیفائیڈ ڈاک کسی لفافے میں ڈال کر ساتھ لانا اور تم سے میرا آدمی تمہیں
آدھی تصویر دکھا کر ڈاک وصول کر لے گا میں تصویر کو مڑوڑ کر آدھا کر کے دکھا دیا
اس دوران میرے ایک درجن آدمی تمہاری ہر نقلو حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہوں گے اگر
چالاکی کرنے کی کوشش کی تو تم کو گولی مار دی جاے گی ان خطوط میں سے ہماری زیادہ
دلچسپی جن خطوط سے وہ ویسٹرن کمانڈ سے آے اور بھیجے ہوئے خطوط سے ہے ایک دن تم
لفافہ لاؤ گے اور دوسرے تم کو وہ لفافہ واپس مل جایا کرے گا ویسٹرن کمانڈ کے نام
پر یشونت چونک گیا آپ پاکستانی ہیں میں نے کہا نہیں میں بھارتی ہوں اس سے زیادہ
سوال کی تمہیں اجازت نہیں ہے جب تم ہمارا اعتماد حاصل کر لو گے تمہیں سبکچھ بتا دیا
جائے گا یشونت نے کہا کہ اس اہم کام کے بدلہ مجھے کچھ معاوضہ بھی دیا جایا کرے گا
میں نے کیا یہ تو تمہاری اور ڈاک پر منحصر ہے اس پر تم کو معقول معاوضہ دیا جائے
گا اگر کوئی اہم خط ہوا تو اس پر ڈبل معاوضہ دیا جاے گا میں نے تنبیہ اسے کہا کہ
اسی کے دفتر میں میرا ایک آدمی کام بھی کر رہا ہے جو تمہاری نقل وحرکت پر نظر رکھے
گا تاکہ تم کوئی چالاکی نہ کر سکو کل تمہارے امتحان کا پہلا دن ہے