غازی

قسط نمبر 16
پیشکش . عارف چیمہ
تحریر ابو شجاع ابو وقار
کل شام تمہارا پہلا امتحان ہے اور اس
امتحان میں کامیابی ہی تمہارا ہمارے لیے اعتماد کا سبب بن سکتی ہے کوئی عذر قابل
قبول نہیں ہو گا اس دو گھنٹے کی ملاقات میں یشونت کو مکمل اپنے قابو میں کر لیا
تھا میں نے بل ادا کیا اور یشونت کو کہا کہ وہ ٹھیک 10 منٹ بعد باہر آئے دس منٹ کے
بعد یشونت باہر آیا تو میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ چھپر ہوٹل میں اندھیرے میں کھڑا
ہو کر یشونت کو باہر نکلتے دیکھ رہا تھا یشونت مردہ قدموں کے ساتھ بس اسٹاپ کی طرف
جا رہا تھا تھوڑی دیر میں بس آ گئی اور وہ اس میں سوار ہو گیا ادھر ہم نے ٹیکسی لی
اور پرانی دہلی کی طرف روانہ ہو گئے ٹیکسی ڈرائیور کو زیادہ پیسے دے کر ہم نے پانچ
سواریاں بٹھانے پر رضا مند کر لیا تھا راستے میں میرے ساتھی ایک ایک کر کے وقفے
وقفے سے اترتے گئے میں بھی محلہ فراش خانہ سے پہلے ہی اتر گیا اور ایک گلی میں یونہی
چکر کاٹ کر باہر سڑک پر آ کر ایک اور ٹیکسی پکڑ لی اور ہوٹل جا پہنچا میں نے ساتھیوں
میں سے دو جو سویپرز کی نگرانی کر رہے تھے ان میں سے ایککی ڈیوٹی یشونت کے گھر کے
باہر گلی اور آس پاس لگا دی اور دوسرے کی دفتر سے باہر کہ وہ دیکھے کہ وہ کیسے آتا
جاتا ہے
ہوٹل میں پہنچ کر میں بیڈ پر لیٹ گیا
اور یشونت سے ملنے والے لفافے کے متعلق منصوبہ بندی کرنے لگا اب مسئلہ یہ تھا کہ یشونت
سے ملنے والے خط کس طرح کاپی کر سکتا ہوں فوٹو کاپی کروانے یا فوٹو فلم بنوانے کی
صورت میں دوکان دار کو شک پڑ سکتا تھا ہمارے پاس لیزر کیمرہ بھی نہیں تھا اچانک
مجھے چاندنی چوک میں ٹھیلے والا یاد آ گیا جو بڑی سلیٹوں کو ایک پر لکھا ہوا کاغذ
رکھتا اور دوسری میں کوئی مثالہ بڑھتا اور پھر کاغذ سلیٹ کو دوسری سلیٹ پر رکھ
دباتا تو لکھائی کے نشان مسالے والی سلیٹ پر لگ جاتے پھر وہ ایک سادہ کاغذ لے کر
لکھائی والی سلیٹ پر رکھ کر دباتا تو کاغذ پر لکھوائی کے نشان لگ جاتے لہذا. میں
نے صبح اسکی ریکی کرنے کا فیصلہ کیا
اگلی صبح 10 بجے میں چاندنی چوک جا
پہنچا ٹھیلے والا آ چکا تھا میں نے اسے ایک انگریزی رسالے کا پیپر دیا جو میں ہوٹل
سے اپنے ساتھ لایا تھا اس نے دو منٹ میں اس کا عکس بنا کر مجھے تھما دیا میں نے اس
کاغذ پر زور سے انگلیاں پھیریں کہ کہیں عکس مٹ تو نہیں جاتا عکس زعفرانی رنگ کا
اور پختہ تھا ٹھیلے والے نے مجھے محلول سے بھری بوتل دی اور کہا کہ جب عکس دھندلا
اترنے لگے تو محلول سے روئی بھگو کر سلیٹ پر پھیر دیں ایک دفعہ پھیرنے سے 40 سے زیادہ
عکس نکل سکتے ہیں میں نے مکمل تسلی کی اور اس سے سلیٹوں کے 4 سیٹ اور 4 بوتل محلول
خریدے جن کی مجموعی قیمت 250 روپے ادا کی اور واپس ہوٹل چلا آیا ایک مسئلہ تو حل
ہو گیا اب دوسر؛ مسئلہ تھا کہ یشونت سے لفافہ کس طرح حاصل کیا جاے بہت سوچا مگر خیال
پھر اس طرف چلا جاتا کہ یشونت کہیں ہم کو پکڑوانے کی پلاننگ نہ کر دے یشونت کے
سامنے بس میں ظاہر ہوا تھا میرے ساتھیوں سے وہ ناواقف تھا لہذا آخر کار میں نے
اپنے ساتھیوں کے بچاؤ کے لیے فیصلہ کیا کہ یشونت سے لفافہ میں ہی رسیو کروں گا میرے
ساتھی میرے تحفظ کے لیے ادھر ادھر موجود ہوں گے مگر میرے سامنے نہیں آئیں گے آج کا
دن میرے لیے بہت اہم تھا یشونت کے سامنے میں
خود کو expose کر چکا تھا
اور لفافوں کی وصولی بھی میں نے ہی کرنی تھی بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہ اگر یشونت
نے ہماری ملاقات کا اپنے افسران کو بتا دیا اور مجھے پکڑوانے کے لیے انہوں نے کوئی
پلاننگ کر لی تو میرے پکڑے جانے کی صورت میں کیا ان کا تشدد اور کس حد تک میں سہہ
پاؤں گا یہ سوچ کر ہی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑنے لگی موت کا خوف نہیں تھا ڈر
صرف اس بات کا تھا کہ کہیں ہمارا مشن ہی پورا نہ ہو تو کیا ہو گا
خیر میں نے اپنا پسٹل لوڈ کیا اور اپنی
پلاسٹک کی داڑھ کی رسی کر لوز کیا تاکہ بوقت ضرورت میں اسے نگل سکوں
میں ابھی تک فیصلہ نہیں کر پایا تھا
کہ یشونت سے پیکٹ کہاں رسیو کروں یشونت کے دفتر سے گھر جانے والی بس میں وصول کرنا
خارج از بحث تھا وہ اس لیے کہ یشونت نے اگر ڈبل کراس کرنا تھا تو اس بس میں بھارتی
کمانڈو بیٹھے ہوں گے جو مجھے آسانی سے پکڑ سکتے تھے اب رہ گیا بس سٹاپ سے یشونت کا
گھر جانے کا فاصلہ تو وہ 50 میٹر تھا اس میں بھی بھارتی کمانڈو موجود ہو سکتے تھے
جو مجھے آسانی سے پکڑ سکتے تھے ہم پانچوں مل کر بھی بھاتی کمانڈوز کا مقابلہ نہیں
کر سکتے تھے آخر کار ایک تجویز مجھے بہتر نظر آئی اور میں نے اس پر عمل کرنے کا فیصلہ
کر لیا میری روانگی کا وقت ہو گیا تھا میں نے دو نفل پڑھے اور اللہ سے اپنی کامیابی
کی دعا مانگی اور اپنے ہوٹل سے باہر آ گیا
میں نے وہاں کھڑی ٹیکسیوں میں سے ایک ٹیکسی لی اور کناٹ پیلس آ
گیا وہاں اس ٹیکسی کو چھوڑا اور نئی ٹیکسی لے یشونت کےگھر کی گلی کے سامنے سے
رفتار آہستہ کرواتے ہوئے آگے گزر گیا میرے دو ساتھی وہاں موجود خوانچوں اور ٹھلیے
والے کے ساتھ مصروف تھے آ گے جا کر میں نے یہ ٹیکسی بھی چھوڑی اور نئ ٹیکسی لے کر یشونت
کے گھر کے سامنے والی سڑک پر آ گیا اور اسے ایسی جگہ پارک کروایا جہاں بس سٹاپ اور
میری ٹیکسی کے بیچ میں یشونت کی گلی پڑتی تھی ٹیکسی کا رخ میں نے بس اسٹینڈ کے الٹی
جانب رکھوایا
مجھے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا
تھا کہ دفتر کے روٹ والی بس آ گئی تین چار مسافروں کے بعد یشونت بھی اترا اور میرے
دو ساتھی بھی. بس آگے بڑھ گئی پہلے سے موجود میرے ساتھی سب اوکے کی روپوٹ دے چکے
تھے بس سے اترنے والے ساتھیوں نے بھی اشارے میں اوکے کی روپوٹ دے دی تو میں نے ٹیکسی
ڈرائیور کو ٹیکسی سٹارٹ کرنے اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کا کہا یشونت بوجھل قدموں
سے اپنی گلی کی طرف آ رہا تھا اس کے ہاتھ میں کپڑے کا بنا ہوا ایک بڑا تھیلا تھا
جسے وہ لنچ کے کھانے کے لیے بطور ٹفن یوز کرتا تھا یشونت ابھی گلی کے کچھ فاصلے پر
تھا کہ میں نے اس کے بلکل قریب ٹیکسی رکوا دی یشونت نے مجھے دیکھا اور باہر آنے کا
سگنل دیا میں ٹیکسی سے باہر نکل کر اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا گلی میں داخل ہوتے
ہی اس نے مجھے ایک بڑا پیکٹ تھیلے سے نکال کر مجھے دیا اور کہا کہ اسے یہ صبح 7
بجے سے پہلے پہلے واپس چاہیئے یہ سارا عمل 10 سیکنڈ میں ہوا میں پیکٹ لے کر واپس
پلٹا میرے ساتھی اس دوران گلی کے قریب پہنچ چکے تھے کہ کہیں میں ٹریپ نہ ہو جاؤں
گلی سے نکل کر ٹیکسی تک جاتے جاتے میں نے پیکٹ اپنے ساتھی کو تھما دیا اور کہا گھر
پہنچو میں آ رہا ہوں. کناٹ پیلس پر پھر میں نے ٹیکسی بدلی اور ہوٹل آ گیا ہوٹل
پہنچتے پہنچتے میں بار بار پیچھے دیکھتا رہا کہ کہیں میرا پیچھا تو نہیں ہو رہا
ہوٹل پہنچ کر میں سکون کا سانس لیا اور یقین ہو گیا کہ میرا پیچھا نہیں ہوا رہا
تھا اب تک سارے کام ہمارے منصوبے کے مطابق ہو رہے تھے اب دیکھنا یہ تھا کہ یشونت
ہمارے لیے کیا سوغات لایا ہے میں ایک گھنٹہ آرام کیا اور پھر فریش ہو کر سلیٹس اور
کیمیکل کی ایک بوتل لے کر ساتھیوں کے گھر کی طرف چل پڑا
میرے کولیگ میرے منتظر تھے انہوں نے
ابھی تک پیکٹ نہیں کھولا تھا اس میں آنے والی ڈاک کی ایک فائل اور ایک جانے والی
فائل کے تقریباً 200 خطوط تھے میں نے خطوط پڑھنے سے پہلے اچھی طرح جانچ کی کہ آنے
والی ڈاک کے خطوط پر دفتری طریقے کے ڈبل فولڈنگ کے نشان موجود ہیں یا نہیں مگر سب
نشان موجود تھے جس سے ان کے صحیح ہونے کا پتہ چلتا تھا جبکہ جانے والی ڈاک فولڈ نہیں
ہوتی تھی ہر لیٹر پر ٹاپ پریآرٹی اور کنفیڈینشل کی مہر لگی ہوئی تھی جانے والی ڈاک
کا ربن کاپیاں تھیں جبکہ آنے والی ڈاک اصل لیٹر میں تھی اور ان کے لیٹر ہنڈز پر مختلف
کراپس اور ڈویژنز کے نشان اور نمبر چھپے ہوئے تھے جبکہ جانے والی ڈاک پر بھیجنے
والے افسر کا نام رینک دستخط والی جگہ کے نیچے لکھا ہواتھا اور اس کے آگے ٹائپسٹ
اور آفس سپریڈنٹ کے نام کے پہلے حروف درج تھے جب میں ہر طرح سے مطمئن ہوگیا تو میں
نے ساتھیوں کو بتایا تو انہوں نے یا علی کا آہستہ سے نعرہ لگایا اور مجھے کامیابی
پر مبارکباد دینے لگے پھر میں نے انہیں کہا کہ ہماری اتنی بڑی کامیابی ٹیم ورک کے
بغیر نہ ممکن تھی لہذا ہم سب مبارک باد کے مستحق ہیں
اور حقیقتاً یہ ایک ہماری بہت بڑی کامیابی
تھی کہ ہم نے ہیڈ کوارٹر میں داخل ہوئے بغیر وہاں دراڑ ڈال کر یہ کامیابی حاصل کی
تھی اور اب ہمیں مسلسل اہم معلومات کے لیے راستہ تلاش کرتے رہنا تھا میں نے چاروں
ساتھیوں کو سلیٹوں سے کاپیاں بنانے کی ترتیب
اور ترکیب بتائی اور دونوں فائلز کے کاغذات ان میں بانٹ دئیے اور وہ پوری
مستعدی سے کاپیاں بنانے لگ گئے 4 گھنٹے کی مسلسل عرق ریزی سے تمام خطوط کی کاپیاں تیار ہو گئیں میں نے یشونت
کی دی ہوئی فائلز میں تمام خطوط اسی ترتیب اور اسطریقے سے لگا دئیے جیسے پہلے لگے
ہوئے تھے اور بنائی ہوئی کاپیاں الگ محفوظ کر لیں اس کامیابی کی خوشی میں ہم رات
کا کھانا بھی بھول چکے تھے جب سب کام کمپلیٹ ہو گیا تو ایک ساتھی نے چائے بنائی
چائے پیتے ہوئے مجھے ایک خیال سوجھا تو میں نے کیمرے والے ساتھی اور ایک دوسرے
ساتھی کو تیار ہونے کا کہا تیار تو پہلے ہی بیٹھے تھے اور مسلح بھی کیمرہ اور فلش
بیگ ڈال کر وہ میرے ساتھ ہو لئے
رات کے تقریباً 11:30 بجے ہوں گے جب ہم یشونت کی گلی میں پہنچے
تنگ گلی اور ٹمٹماتے ہوے سرکاری بلب گلی کا اندھیرا دور کرنے کی ناکام کوشش کر رہے
تھے میں نے کیمرہ والی ساتھی سے کہا کہ یشونت کے گھر سے نکلنے پر وہ ہماری اس طرح
تصویر لے کہ میری پشت اور یشونت کا چہرہ اور میں فائلز اسے دیتے ہوئے اسی طرح
پکڑوں گا کہ فائل کور پر لکھا ہوا صاف نظر آے دراصل ساتھیوں کے گھر چائے پیتے پیتے
اچانک ایک فائل کر کور پر میری نظر پڑی کہ یشونت نےاپنے دفترسے جلدی میں یا
گھبراہٹ میں بھیجی جانے والی ڈاک فائل کی کاربن پیز ایسے فائل کور میں لگا دی تھی
جس پر اوپری ایک کونے سے نیچے کے دوسرے کونے تک ایسی موٹی سرخ پٹی بنی ہوئی تھی اس
پٹی پر بڑے حروف میں confidentail اور فائل کور کے اوپری
حصہ پر بڑے حروف میں آرمی ہیڈ کوارٹرز لکھا ہوا تھا اسی فائل کور نے مجھے یہ کام
کرنے پر اکسایا تھا میرے ساتھی نے یشونت کے گھر کے سامنے پہنچ کر کیمرے کو فوکس کر
کے اپنی جگہ اس سنبھال لی دوسرے نے پسٹل نکال کر ہمیں کور کیا میں نے یشونت کے گھر
کے باہر لگی ہوئی گھنٹی بجائی تھوڑی دیر بعد یشونت کی بڑی ٹیچر لڑکی نے دروازہ
کھولا اور پوچھا کون تو. میں نے کہا کہ ایک بہت ضروری کام کے لیے یشونت صاحب سے
ملنا ہے وہ لڑکی غالباً سوئی ہوئی آٹھ کر آئی تھی اس لیے بڑ بڑاتی ہوئی واپس چلی
گئی اس کے تھوڑی دیر بعد یشونت دھوتی سنبھالتا ہوا باہر آیا مجھے دیکھ کر اس کا
رنگ فق ہو گیا وہ گم صم سوالیہ بنے کھڑا تھا میں نے اسے کہا کہ دیر سے آنے کی معافی
چاہتا ہوں الصبح مجھے ایک ضروری کام سے آگرہ جانا ہے اس لئے فائلیں لوٹانے آیا ہوں
یہ کہتے ہوئے میں نے سرخ پٹی والی پیکٹ سے نکالی اور یشونت کے ہاتھ میں دیتے ہوئے
کہا آپکا تعاون ہمیں بروقت ملتا رہے تو آپ
کو کوئی پریشانی نہیں ہو گی ٹھیک اسی وقت فلش لائیٹ چمکی اور یشونت چیخ پڑا میں نے
اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر اسے دلاسا دیا وہ بار بار میرے کیمرے والے ساتھی کیطرف
اشارہ کر رہا تھا جو تصویر اتارتے ہی تیز قدموں کے ساتھ گلی سے نکل رہا تھا اور
صرف اس کا سایہ ہی دکھائی دے رہا تھا میں نے دوسری فائل اور پیکٹ بھی یشونت کے
ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بات نہیں اپنا ہی آدمی ہے یشونت نے اٹکتے ہوے کہا
کہ اس نے تصویر اتاری ہے میں نے مسکراتے ہوئے کہا ہاں اس نے تصویر اتری ہے ہمارے
تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے یشونت کے ساتھ گزشتہ 30 گھنٹوں میں جو کچھ ہوا تھا
اسکیوجہ سے اسکی حالت غیر ہوگئی تھی وہ سر جھکائے نگاہیں اپنے پاؤں پر جماے خاموش
کھڑا تھا میں نے اسے کہا کہ پرسوں شام سراےبیرم خان کے اسی ہوٹل میں تمہارا منتظر
ہوں گا آپ کو اپنے ہمراہ ٹاپ پریرآرٹی اور
کلاسیفائیڈ والے کاغذ لانا
ہوں گے اب جب آپ نے ہمارے ساتھ تعاون
کرنا شروع کر دیا ہے تو پھر جھجک کیسی پرسوں ملاقات کے بعد آپ کے لیے ثمی کے
بالاخانے پر جانے موج مستی کرنے کے لیے مالی بندوبست کر دیا جاے گا یشونت کے چہرے
پر مایوس سے مسکراہٹ نمودار ہو گئی مسٹر یشونت مجھے انتظار کرنا بلکل پسند نہیں
لہذا وقت پر پہنچ جائیے گا اور دوسری بات ہم دوست ہیں لیکن میری ہدایات پر عمل
کرتے وقت مجھے باس سمجھنا تمہاری بھلائی اسی میں ہے یشونت کے چہرے پر نمودار ہونے
والی مسکراہٹ پھر غائب ہو گئی میں نے اسے مزید کچھ کہے بنا واپس چل دیا ہمیں کور دینے
والا ساتھی بھی آوٹ سے نکل کر تیز قدموں سے چلتا ہوا مجھ سے پہلے سڑک پر پہنچ گیا
کچھ دیر انتظار کے بعد ہمیں ٹیکسی مل گئی ہم تینوں اس میں سوار ہوے اور واپس چل دئیے
ساتھیوں کو ان کی رہائش سے تھوڑا پہلے اتار کر خود ٹیکسی میں آگے بڑھ گیا لودھی
ہوٹل کے قریب پہنچ کر میں نے ٹیکسی کو فارغ کیا اور ٹہلتا ہوا ہوٹل پہنچ گیا مشن میں
کامیابی کے بعد میری ساری تھکن دور ہو چکی تھی ہوٹل لاؤنج میں کچھ دیر بیٹھنے کے
بعد میں اپنے کمرے میں چلا آیا اور آگے کی پلاننگ کرتے کرتے سو گیا
اگلی صبح تیار ہو کر میں ساتھیوں کے
گھر چلا گیا اور وائرلیس پر کوڈ پیغام لاہور بھیجا کہ اس بار بھی دو کورئیر کو بھیجا
جائے آرمی ہیڈ کوارٹرز میں رابطہ کریا ہے اور اہم کاغذات کی کاپیاں بھیجنی ہیں اگر
ممکن ہو تو ایسی ساخت کا کیمرہ بھیجا جاے جس سے کاغذات کی تصویریں اتاری جا سکیں
اور کیمرے کے لیے فالتو فلمیں بھی خاصی مقدار میں بھیجی جائیں یہ پیغام بھیجنے کے
بعد میں نے ان دوساتھیوں کو جو سویپرز کے پیچھے لگا تھے کہا کہ اب جب یشونت ہمارے
قابو میں آ گیا ہے تو بہتر ہے کہ سویپرز کو بھی جلد قابو کیا جائے یشونت ہمیں صرف
copying office میں موجود کاغذات مہیا کر سکتا ہے اسکی
دوسرے سئنرز آفیسرز تک رسائی نہیں ہے وہاں صرف سویپرز ہی دفتری اوقات کے بعد جاتے
ہیں اور ان کے ذریعے ہی وہ نوٹس جنہیں وہ پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں
حاصل کیے جا سکتے ہیں مجھے اچانک خیال آیا کہ ہیڈ کوارٹر میں بیسیوں صفائی والے
ہوتے ہیں کون کس کی صفائی کرتا ہے اس کے متعلق ان سویپرز کے نام اور دوسری معلومات
یشونت سے ہی مل سکتی ہیں لہذا پہلے ان سویپرز کے نام معلوم کیے جائیں پھر اب کو ٹریس
کیا جاے دراصل حالات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے پلان بھی چینج کرنے پڑتے تھے
یشونت کے تعاون سے پہلے ہم ایسے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے مگر اس کے تعاون کے بعد ایک
مہرہ ہاتھ آ گیا تھا اور اس سے ہیڈ کوارٹر کے متعلق معلومات مل سکتی تھی لہذا جن
ساتھیوں کومیں نے سویپرز کے پیچھے لگایا تھا ان کو فیالحال روک دیا اور وجہ بھی ان
کو بتا دی اس پر انہوں نے اتفاق کیا یشونت کے ساتھ رابطہ ہونے کا جیسے جیسے میں
سوچتا تھا ویسے ویسے خطرات بڑھتے جاتے تھے جب تک ہم تہی دامن تھے سیو تھے مگر یشونت
سے رابطہ ایک اہم اثاثہ ہمارے ہاتھ آگیا تھا لہذا اب ہم کو ہر کام میں پھونک پھونک
کر قدم رکھنا تھے اگلے روز یشونت سے ملنا تھا اس دوران مجھے drops کے لیے محفوظ جگہوں کا انتخاب کرنا تھا کیونکہ بار بار یشونت
سے ملنے سے میں شک کی نگاہوں میں آ سکتا تھا لہذا میں ایسا پوائنٹ تلاش کر رہا تھا
جہاں پر یشونت پارسل رکھ دیا کرتا اور میں اور میرے ساتھی وہاں سے اٹھا لیا کرتے
اور واپسی ہم بھی وہی رکھ دیتے اور یشونت اٹھا لیتا اور دوسرا مجھے روپوں کی خاصی
ضرورت تھی کیونکہ یشونت کو پیسوں کی نکیل ڈال کر ہی رکھنے میں بہتری تھی اور ایسی
اشد ضرورت میں مجھے بھارت میں موجود اپنے ہمدردوں سے ملنے کی اجازت تھی ساتھیوں سے
فارغ ہوکر میں کپڑے کی مارکیٹ پہنچا مصلحتاً نام نہیں لکھ رہا مارکیٹ کا کیونکہ
دہلی پہنچتے ہی میں شروع میں اپنے بتاے گئے ہمدردوں کے ٹھکانوں کا پتہ اور دیکھ
چکا تھا میں مارکیٹ میں اپنے ایک ہمدرد کی دوکان پر گیا میں نے چٹ پر رقم اور اپنا
کوڈ نمبر لکھ رکھا تھا یہ تھوک کپڑے کی مارکیٹ تھی مجھے اس ہمدرد کا حلیہ اور
شناختی نام پہلے ہی بتا دیا گیا تھا پھر بھی میں نے تسلی کے دوکان کے مالک کا
پوچھا دوکان کے اندر بنے کیبن میں وہ بیٹھا ہوا تھا میں اس کے پاس گیا اور رسمی
گفتگو کے بعد میں نے اک کوڈ نام لیا جو مجھے بتایا گیا تھا وہ ایک دم سے چونک اٹھا
اور بولا فرمائیے کیا حکم ہے میں نے چٹ اس کے ہاتھ میں تھما دی چٹ پڑھتے ہی اس نے
ایک ڈائری نکالی شاید اس میں میرا کوڈ حلیہ درج تھا اس نے چٹ ڈائری میں رکھ لی اور
دراز کھول 20 ہزار مجھے دے دیئے اور میں فوری شکریہ ادا کر کے دوکان سے باہر آ گیا
شاید پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ ان ہمدردوں کو ہمارا محکمہ ہمارا لیا ہوا پیسہ غیر
ملکی کرنسی میں ادا کرتا ہے اور ہر ہمدرد کے پاس محکمے کی خاصی رقم موجود ہوتی ہے
مارکیٹ سے باہر آ کر میں نے ٹیکسی لی
اور پارسل کے لیے یشونت کے دفتر سے اس کے گھر تک سڑک کے بار بار چکر لگاے لیکن کوئی
مناسب جگہ نظر نہ آئی آخر کار میں نے پارسل کی جگہ کے انتخاب کے لیے یشونت سے بات
چیت کر کے جو مناسب لگے اس پر چھوڑ دیا اور واپس گھر آ گیا شام کرنل شنکر سے ملنے
سروسز کلب چلا گیا کرنل شنکر اپنی مخصوص جگہ پر مئے نوشی میں مصروف تھا اس نے خاصی
بے تکلفی سے مجھے خوش آمدید کہا اور کئی روز غیر حاضری کی شکایت بھی کی میں نے ایک
ضروری کام کے لیے ممبئی جانے کا بہانا بنایا کرنل نے ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں
عبدالکریم اپنی جگہ پر بادب کھڑا تھا اس کئی بار اپنی آنکھوں سے اشارے کیے مگر میں
سمجھ نہ سکا کہ تھوڑی دیر بعد میں نے کرنل کو کہا کہ مجھے ٹائلٹ جانا ہے اس نے
عبدالکریم کو کہا اور یوں میں اس کے ساتھ کرنل کے بیڈ روم والے ٹائلٹ جانے کے لیے
اس کے ساتھ ہو لیا عبدالکریم نے کہا کہ اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں نے علیحدگی میں
آپ سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں میں نے کہا عبدالکریم تم نے جو باتیں بھی کرنی ہیں
کل دن 11 بجے لودھی ہوٹل میں آ کر کرنا عبدالکریم نے سر ہلایا اور میں پھر کرنل کے
ساتھ اسکی محفل میں شریک ہو گیا کرنل آج میری گزشتہ لائف کے بارے میں جاننا چاہتا
تھا میں نے کہا کرنل صاحب صرف ناموں اور جگہوں کا فرق ہے ورنہ میری اور آپکی
داستان ایک جیسی ہے آپ نے بھی لو میں شکست کھائی اور میں نے بھی آپ نے اپنے غم
شراب میں ڈبو لیے اور میں نے بمبئی کی رنگینیوں میں لیکن یہ دل ہے کہ کمبخت
سمبھلتا نہیں تنہائی میں زخم پھر تازہ ہو جاتے ہیں کرنل مجھ سے تفصیلی سٹوری سننا
چاہتا تھا اور مجھے کہانی کے سرے تک کا پتہ نہ تھا میں نے جھوٹ موٹ آنکھوں پر ہاتھ
رکھا اور روندھی ہوئی آواز میں کہا آپ نے دبی ہوئی آگ کو چھیڑ کر بڑا ظلم کیا ہے نجانے اب اس چنگاڑی کو
راکھ ہونے میں کتنا وقت لگے گا آپ تو فوجی ہیں جذبات پر قابو پا سکتے ہیں لیکن میرے
لیے یہ بہت مشکل ہے لہذا میں اب اجازت چاہوں گا یہ کہہ کر میں کھڑا ہوگیا کرنل نے
کئی بار مجھے بیٹھنے کا کہا اور آخر میں خود کھڑا ہو گیا لیکن میں نے ایسی ایکٹنگ
کی کہ کرنل بھی چکرا گیا اور روتے ہوئے میں اس سے رخصت ہوا میرا آج کا دن خاصہ
مصروف گزرا تھا میں واپس ہوٹل پہنچا تو آشا کا پیغام موصول ہوا اس نے مجھے گھر پر
فون کرنے کا کہا تھا میں نے ہوٹل لابی سے ہی آشا کو فون کیا وہ گھر پر ہی تھی اسکی
طبیعت ناساز تھی اور جے چند کاروباری سلسلےمیں چندی گڑھ گیا ہوا تھا ڈھیر سارے
شکوے شکایات کے بعد آشا نے مجھے گھر آنے کی رعوت دی اور میں نے خود اپنی طبیعت
ناسازی کا بہانہ بنا کر معذرت کر ل آشا نے بآلا خر جب کوئی چارہ نہ لگا تو اس نے
کہا کہ میں آپکی بہتری کے لئے ہی آپ سے ملنا چاہتی ہوں اسکی یہ بات سن کے میں کچھ
پریشان سا ہو گیا کہ بھلا آشا میری بہتری کے لئے کیا کر سکتی ہے میں نے اس سے بہتیرا
پوچھا مگر اس نے کہا کہ وہ بس مجھ سے ملنے پر ہی مجھے بتائے گی اگلا دن میری مصروفیات
کا دن تھا کیونکہ 11 بجے عبدالکریم آ رہا تھا شام کو یشونت سے ملنا تھا اور اپنے
ساتھیوں سے بھی ملنا اور سراے بیرم خان کا پروگرام سیٹ کرنا تھا عام حالات میں آشا
کی بات کو اہمیت نہ دیتا مگر دشمن ملک میں ہندو بن کر رہنے اور جاسوسی کرنے والے
کو چھوٹی چھوٹی بات کو اہمیت دینی پڑتی ہے اور پھر آشا کے تعلقات تو سول اور فوجی
افسران تک تھے لہذا میں نے آشا سے 1 بجے اشوکا ہوٹل میں اکھٹے لنچ کرنے کا کہا لیکن
. آشا نے کہا کہ اشوکا میں اکثر سٹاف کے لوگ اسے مسسز جے چند کے نام سے جانتے ہیں
اس لیے کناٹ سرکس میں چائنیز میں مجھے دوپہر ایک بجے ملے گی اور میں آشا کی اس
بہتری والی بات پر اپ سیٹ ہو چکا تھا بہرحال موقع کی مناسبت سے قدم اٹھانے کا سوچ
کر میں کمرے میں آگیا دوسرے دن ٹھیک 11 بجے ریسیپشن نے مجھے عبدالکریم کی آمد کی
اطلاع دی میں نے اسے کمرے میں بلا لیا عبدالکریم نے سول لباس پہنا ہوا تھا اس نے
نہایت مؤدبانہ انداز میں مجھے سلام کیا میں نے اسے صوفے پر بیٹھنے کا کہا تو وہ
جھجکا اور بولا نہیں صاحب میں قالین پر ہی بیٹھ جاؤں گا لیکن میں نے اسے کہا کہ
اگر مجھ سے بات کرنی ہے تو جیسا میں کہہ رہا ہوں ویسا کرو پھر بھی وہ جھجکتا ہوا
صوفے پر بیٹھ گیا عبدالکریم کا رویہ غیر معمولی تھا سارے بھارت میں مسلمانوں کی یہی
حالت ہے انہیں دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت دی جاتی ہے بھارت میں مسلمان ہونا ہی
جرم ہے اس لیے میں نے محسوس کیا کہ چند مسلمان خاندان ہیں جنھیں بھارت عالمی برادری
میں اپنا امیج برقرار رکھنے کے لیے ہر قسم کی سہولیات دی ہوئی ہیں تاکہ بوقت ضرورت
وہ مسلمانوں کو عالمی سطح پر دکھا سکیں کہ ہمارا رویہ بہت اچھا ہے باقی سب
مسلمانوں کی حالت ابتر ہے اگر کوئی مسلمان اپنی دوکان شروع کرتا ہے تو ارد گرد کے
ہندو اشیاء کی قیمتیں کم کر کے اس مسلمان کی دوکان کو فلاپ کروا کر بند کروا دیتے
ہیں یہاں میں واقعہ مختصر عرض کرنا چاہوں گا جس کا میرے مشن سے کوئی تعلق نہیں ہے
لیکن یہ بھارتی مسلمانوں کی حالت زار کی عکاسی کرتا ہے آلہ آباد کے
pwo کیمپ نمبر 2 میں بھارت کے ایک کاروباری اور سیاسی
مراعات یافتہ شخصیت کو برین واش کرنے کے لیے لایا گیا اس نے پاکستانی فوجیوں سے
خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگ خواہ مخواہ بھارت سے جنگ کر کے اپنی جانیں گنواتے ہو
بھارت ہو یا کشمیر بھارتی مسلمانوں سے یکساں سلوک کیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ
بھارت کی نیشنل اسمبلی مسلمان جو اقلیت میں ہیں ان کے لیے کوئی علیحدہ کوٹہ مقرر
نہیں ہے جبکہ پاکستان میں ایسا نہیں ہے یہاں مسلم اور غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں
ہے سب سے برابر کا سلوک کیا جاتا ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت میں خود ہوں میں
مسلمان بھی ہوں صنعت کار بھی ہوں اور سیاست میں بھی ہوں اگر بھارت میں مسلمانوں سے
یکساں سلوک نہ کیا جاتا تو آج میں اس مرتبے پر نہ ہوتا خیر اس نے خاصی لمبی تقریر
جاڑی. باقی سب تو خاموشی سے سنتے رہے مگر ایک pwo میں مسلمان صوبیدار سے اسکی یہ بکواس برداشت نہ ہوئی وہ کھڑا ہو گیا اور
سرال کرنے کی اجازت چاہی میں اس صوبیدار سے پاکستان میں بھی مل چکا ہوں اس کا جو
مکالمہ ہوا وہ حاضر ہے
صوبیدار.. جناب بھارت میں مسلم آبادی
کا تناسب کیا ہے؟
صنعت کار.. بھارت میں مسلمان کل آبادی
کا آٹھواں حصہ ہیں
صوبیدار.. کیا آپ مسلمانوں کو جنگجو
قوم تسلیم کرتے ہیں؟
صنعت کار.. یقیناً مسلمان جنگجو قوم
ہے.
صوبیدار.. آپ کے کہنے کےمطابق بھارت میں
مسلمانوں سے یکساں سلوک کیا جاتا ہے؟
صنعت کار.. یہ بات بلکل صحیح ہے.
صوبیدار.. تو جناب یہ بتاییے کہ جب
مسلمان جنگجو قوم ہے تو 47ء سے لے کر آج تک 25 برس کی مدت میں کتنے مسلمان آرمی میں
جنرل بنے ہیں میرا خیال ہے کہ ایک بھی نہیں؟
صنعت کار پسینے میں شرابور ہو گیا اور
تقریر ادھوری چھوڑ کر واپس چلا گیا اور پاکستانی صوبیدار کو سچ بولنے کے جرم کی
پاداش میں 21 روز کی قید تنہائی ملی. اور اس کا راشن بھی آدھا کر دیا گیا میں نے
بھارت میں محسوسکیا کہ ہندو مسلمانوں سے سخت نفرت کرتے ہیں اور انہیں ذلیل کرنے
اور بغیر وجہ کے قتل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ہندو خود وہی بات
کرے تو ہرج نہیں اگر وہی بات مسلمان کر دے تو جرم بن جاتا ہے مذہب پر حملہ بن جاتا
ہے اور ہندومسلم فساد شروع ہو جاتا ہے جن میں مرنے والے مسلمان جن کی تعداد آبادی
کا آٹھواں حصہ ہے ہندوؤں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے دہلی میں اشوکا اور اکبر ہوٹل
بھارت سرکار کی ملکیت ہیں ان ہوٹلوں میں انگریزوں اور دوسرے غیر ملکیوں کو گاؤ
ماتا کا گوشت کھلے بندوں پیش کیا جاتا ہے لیکن اسی گاؤ ماتا کو کوئی مسلمان
دوکاندار اپنی سبزی بچانے کے لیے ہلکا ساڈنڈا بھی مار دے تو ہندو ماتا کی پوتر گاے
کو اذیت پہنچانے پر ہنگامہ شروع ہو جاتا ہے ہنومان کی نسبت بندر ہندودھرم کا ایم دیوتا
ہے بھارت سرکار اپنے اسی دیوتا کو تجربات کے لیے چالیس ہزار سے زائد بندروں کو
ڈاکٹری تجربات کے لیے فروخت کرتی ہے جو اس دیوتا کا چیڑ پھاڑ کرتے ہیں. میں بمبئی.
میں بارہ چودہ میل سمندر کے اندر الفینٹا کا جزیرہ ہے جہاں پر گوروں نے اپنی رہائش
گاہیںبنائی ہوئی تھیں وہاں تفریحی کے لیے آنے والے لوگوں سے بندر کھانے کی چیزیں
جھپٹ کر چھین لے جاتا ہیں وہاں ایک مسلمان کو ایک بندر کو پتھر مارنے پر پٹتے دیکھا
اس بات سے آپ بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار کا اندازہ لگا سکتے ہیں
عبدالکریم کا میرے کمرے میں میرے
سامنے صوفے پر بیٹھنے سے انکار کرنا اس کی ذہن سازی کی عکاسی کرتا تھا ایک ہندو
چاے کے بیوپاری اور وہ بھی اس کے کرنل کا دوست تو اس کے سامنے عبدالکریم کا ایسا
کرنے کا حق بنتا تھا میں نے عبدالکریم کی جھجک دور کرنے کے لیے اس سے بے تکلفی سے
باتیں شروع کر دیں اس کے لیے ٹھنڈے مشروب منگواے جب تھوڑی دیر بعد کا رویہ تبدیل
ہوا تو میں نے پوچھا کہ اب بتاؤ کیا ضروری بات کرنی ہے عبدالکریم نے اپنے حواس
مجمع کیے اور جو کہا اس کا لب لباب یہ تھا ذلت سہتے سہتے اب وہ بے حال ہو چکا ہے
اور اسکو اب مزید صورتحال برداشی کرنے دکت نہیں ہے وہ روتے روتے میرے پاؤں میں گر
گیا میں نے اسے اٹھا کر پھر صوفے پر بٹھا دیا ہندو افسروں کی گالیوں اور سخت رویے
ایک مسلمان بھارتی سپاہی اتنا مایوس ہو چکا تھا کہ مجھے موم کرنے کے لیے اس نے
ہندو رسم ورواج کے مطابق میرے پاؤں پکڑ لیے اس نے کہا کہ میں گھٹ گھٹ کر مرنے لگا
تھا کہ آپ کے رویے نے میری ہمت بندھائی تو آپ سے بات کرنے کا حوصلہ پیدا کیا آپ کی
کرنل صاحب سے بات چیت سے میں نے اندازہ لگایا کہ آپ کا بمبئی میں چاے کا کاروبار
ہے مجھے یہاں سی بمبئی لے چلیے میں زندگی بھر آپکی خدمت کرتا رہوں گا اور آپ کو
مجھ سے کبھی شکایت کا موقع نہیں ملے گا عبدالکریم کو میں نے پھر دلاسہ دیا اور کہا
کہ میں تمہاری ہر مدد کرنے کو تیار ہوں اور میں متعصب بھی نہیں ہوں لیکن فوج سے
بھاگ کی صورت میں تم مفرور فوجی بن جاؤ گے پولیس تمہاری تلاش کرے گی یا تو تم پکڑے
جانے کی صورت میں لمبے عرصے کے لیے جیل چلے جاؤ گے یا پھر ساری زندگی مفرور کی حیثیت
سے گزار دو گے پولیس تمہارے رشتہ داروں کو تنگ کرتی رہے گی یہ کہہ کر میں چپ ہو گیا
اور ذرا توقف کے بعد اسے کریدنے کے لیے کہا کہ تم نے تو اچھی طرح دیکھ لیا ہوگا کہ
ہمارے ملک میں مسلمانوں کے ساتھ کیسا ذلیل والا سلوک کیا جاتا ہے میں بہت کھلے دل
کا آدمی ہوں اور اپنے مذہب کی تنگ نظری سے بہت نالاں ہوں